تہران20جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی پیشمرگہ فورس نے پاسداران انقلاب کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اب تہران کی جانب سے عراقی کردستان کو دی جانے والی دھمکی کے بعد پیشمرگہ مقابلے کے نئے مرحلے کے لیے خودکوتیار کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ تہران عراقی کردستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے چکا ہے جو ایران کی کرد تنظیموں کے گروپوں کو پناہ فراہم کررہا ہے۔ایران کے شمال مشرق میں کرد علاقوں میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پاسداران انقلاب کے درمیان تقریباََ ایک ماہ تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں جانبین کے درجنوں ارکان ہلاک ہوئے۔ اس دوران ایرانی فورسز کی جانب سے کرد دیہاتوں کے علاوہ عراقی کردستان کے اندر واقع علاقوں کو بھی توپوں کی گولہ باری کا نشانہ بنایاگیا۔ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سکریٹری جنرل مصطفی ہجری نے اعلان کیاتھاکہ 20برس کے وقفے کے بعدپیشمرگہ کی مسلح کارروائیوں کا مقصد پہاڑوں اور شہروں کے درمیان کرد جدوجہد کو یکجا کرنا ہے۔ ہجری کے مطابق ایرانی کریک ڈاؤن اور کرد کارکنان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ تہران حکومت ایران میں کردوں اور دیگر قومیت کے حقوق کو تسلیم نہیں کر رہی۔اسی سیاق میں کرد صحافی آسو صالح نے ایک تصویری رپورٹ ارسال کی ہے جس میں پیش ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں پیشمرگہ کے ارکان کی تربیت کودکھایاگیاہے۔آسوصالح قندیل کے پہاڑوں میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی پیشمرگہ فورس کی سرگرمیوں اورکارروائیوں کی کوریج کرتے ہیں۔